احمد شاملو

احمد شاملو جدید فارسی شاعری کا منفرد نام ،ان کا قلمی نام ’’بامدار‘‘ تھا۔ 12 دسمبر 1925 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کی پیدائش کابل / افغانستان میں ہوئی تھی۔ شاملو کا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ شاملو شاعر ہونے کے علاوہ قاموس دان، صحافی اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ وہ کچھ عرصے نیو جرسی / امریکا میں بھی مقیم رہے۔ وہ ایک عرصے تک پروفیسر اور مدیر بھی رہے۔ ان کی نظموں کے تراجم لٹریری رویو اور لٹریچر ایسٹ اینڈ ویسٹ میں چھپ چکے ہیں۔ ان کی12 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں ،’’آہنگ ہائی فراموش شدہ‘‘، ’’زن پشت در مقری‘‘، ’’ہوائی تازہ‘‘ اور ’’قطغامہ‘‘ شامل ہیں۔ شاملو کی تحریروں پر حافظ، خیام، نیما، بیاگی، رلکے،مایاوسکی،آرگن،لانگسٹن ہیوز اور لورکا کے گہرے اثرات ہیں۔ انہوں نے تین شادیاں کیں۔ وہ ایران کی کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے اور شاملو ایک سال سے زائد پابند سلاسل بھی رہے۔ ذیا بیطس (شوگر) کے سبب ان کے دائیں پاؤں کی جراحت ہوئی۔ اتوار 23 جولائی2000 میں انتقال ہوا۔ اور ’’خراج‘‘ /ایران میں پیوند زمین ہوئے۔